کچھ باتیں قومی جانور کے متعلق

میرے محترم قبلہ گاہ محکمے وائلڈ لائف سے بحیثیت ڈپٹی رینجر ریٹائرڈ ہیں انہیں اپنے محکمے کے ساتھ خاص اُنسیت ہے ۔ریٹائر ہونے کے بعد بھی محکمے کے لئے فکر مند رہتے ہیں ۔اس کالم کو لکھنے میں ان کی بھرپور مدد اور دلچسی کارفرما ہے۔مارخور کو کھوار میں “شارا ” کہا جاتا ہے ۔شینا زبان میں “بم میارو ” کہتے ہیں اور بلتی زبان میں “رُوچھو “کہا جاتا ہے ۔مارخور فارسی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے سانپ کھانے والا ۔ اس کی وجہ تسمیہ یوں بیان کی جاتی ہے یہ سانپ کھاتا ہے اور جگالی سے جو جھاگ نکلتی ہے اس کا تریاق بنتا ہے لیکن اس قسم کی کوئی سائنسی شہادت موجود نہیں ۔

مارخور کی کئی قسمیں ہیں جس کی تخصیص عام طور پر سینگوں کی ساخت سے کی جاتی ہے ۔استور مارخور، کشمیر مارخور زیادہ مشہور ہیں ۔چترال میں کشمیر مارخور پایا جاتا ہے ۔استور مارخور کے سینگوں کے مقابلے میں کشمیر مارخور کے سینگ سیدھے اور زیادہ لمبے خنجر نما ہوتے ہیں جبکہ استور مارخور کے سینگوں کے درمیان فاصلہ زیادہ ہوتا ہے ۔ اس کے سینگ گیم بک ریکارڈ کے مطابق 53 انچ اورعمر آٹھارہ سے بیس سال ہوتی ہے ۔

مارخور کا مسکن چار ہزار فٹ بلندی کی سے شروع ہوتا ہے لیکن موسم اور خوراک کے لئے وہ اس کی پابندی نہیں کرتا، سردیوں میں نیچے اترتا ہے اور گرمیوں میں بہت اونچا چلا جاتا ہے ۔اسے کیل کے ساتھ چرتے ہوئے دیکھا گیا ہے. مقامی جانور ہے ہجرت نہیں کرتا البتہ نمک کی تلاش میں دور دور تک نکل جاتا ہے ۔اگر اسے عدم تحفظ کا خطرہ محسوس ہوجائے تو ہجرت کرتا ہے ۔ یہ انتہائی حساس جانور یے اور زبردست قوت شامہ اور سامعہ رکھتا ہے اور خطرہ محسوس کرتے ہوئے ناک سے آواز نکالتا ہے اور کُھر پتھر پر مارتا ہے ۔نر مادہ کا ملاپ سردیوں میں ہوتا ہے اور سب سے بڑا نر مادے سے دسمبر کو ملتا ہے. ان ایام میں نر اپنی حدود کی حفاظت اور نشاندہی اپنی پیشاب سے کرتا یے تاکہ کوئی دوسرا نر مداخلت نہ کرے ۔دوسرا نر اس حدود میں داخل نہیں ہو سکتا. بچے پانج ماہ بعد جون کے اواخر اور جولائی کے شروع میں دیتی ہے. چیتا اس کا ازلی دشمن ہے اور گھریلو جانوروں کی وجہ سے اس کو بیماری لگتی ہے ۔ماضی میں اس قومی جانور کا بے تحاشا شکار کیا گیا اور یہ سلسلہ ہنوز جاری و ساری ہے. سب سے خوش آئند بات چترال گول اور شاشا کے مقام پر ان کی افزائش کی ہے جہاں ان کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے ۔تمام تر حفاظتی اقدامات کے باوجود شکاری غیر قانونی شکار بھی کرتے رہتے ہیں کئی مرتبہ محکمے کے اہلکار شکاریوں کے خلاف مقدمات درج کر چُکے ہیں ۔ اس کے علاوہ گہریت گول گیم ریزرو میں کشمیری مارخور معدومیت کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں تعداد بڑھنے کی بجائے کمی ہوتی جارہی یے ۔ گیم ریزرو کے پچاس کلومیٹر کے احاطے میں پانچ سے دس واچرز رکھیں گے تو تعداد خاک بڑھے گی؟ اور افسران سال میں وزٹ کرنے سے عار محسوس کریں اور وی سی سی کمیٹی محض فنڈز کے علاوہ تحفظ کے لئے کوئی قدم نہ آٹھائے تو یقینا چند سال بعد اس قومی جانور کا مٹ جانا قدرتی امر ہے.

چترال میں مارخور چترال گول نیشل پارک، گہریت گول گیم ریزرو ، توشی گیم ریزرو میں ان کی تعداد باقی جگہوں کے بنسبت زیادہ ہے. چترال کے دیگر دروں مثلاْ جغور گول، رمبور، بریر، شیشکوہ وغیرہ میں پہلے مارخور بہت زیادہ تھے اب چند گنتی کی تعداد میں رہ گئے ہیں ۔ جس کی بنیادی وجہ غیر قانونی شکار اور ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے عدم توجہی ہے ۔اُمید ہے محکمے کو جھنجھوڑنے میں آپ بھی ہمارا ساتھ دیں گے تاکہ ہمارے قومی جانور کا تحفظ ہو سکے ۔

Zeal Policy

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
125970cookie-checkکچھ باتیں قومی جانور کے متعلق

کالم نگار/رپورٹر : شمس الحق نوازش

تبصرہ

  1. پچھلے کے ساتھ جوڑیں کیل (آئبیکس) – Zeal News

Share This