فلک ناز کرے

وہ کہنا یہ تھا کہ فلک ناز اور ہم میں بہت ساری چیزیں مشترک ہیں۔ وہ بھی پی ٹی ائی کی کارکن ہیں اور ہم بھی ہیں۔ وہ بھی چترال سے ہیں اور ہم بھی ہیں۔ وہ بھی فرسودہ نظام کا لبادہ لپیٹنے کی تحریک کی سپاہی ہیں اور ہم بھی اس تحریک سے کلی اتفاق کرتے ہیں۔ وہ بھی ووٹ کو عزت دو اور روٹی کپڑا اور مکان کے گھسے پٹے اور منافقانہ نعروں سے دلبرداشتہ ہیں اور ہم تو بہت پہلے سے ہیں۔ لیکن وہ کیا کچھ ہے جس نے آج فلک ناز کو ہم جیسے “ٹائیگرز” سے ممتاز کرتی ہے۔ بات واضح ہے۔ چلئے آسان پیرائے میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ سیاست کوئی آسان کھیل نہیں ہے۔ چچا غالب نے کہا تھا کہ “یہ عشق نہیں آسان بس اتنا سمجھ لیجئے۔اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے”۔ سیاست کے بھی کارکن سے کچھ ایسے ہی تقاضے ہوتے ہیں۔ اور وہ تقاضے ہم جیسے ٹائیگرز،گلی گوچے کے جیالے اور محلے کے متوالے پورے نہیں کرسکتے۔ ہمارے معاشرے میں جہاں عام مرد کیلئے سیاست میں حصہ لینا اور کسی مقام تک پہنچنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں وہاں چترال کے دور افتادہ گاؤں کی خاتون کیلئے ایوان بالا تک پہنچنا انتھک محنت، قربانی اور پارٹی کے ساتھ غیر مشروط وفاداری کا مظہر ہے۔ ایک خاتون کیلئے کسی ایسی جدوجہد کا حصہ بننا جو کہ روایتی نظام کو چیلنج کرتی ہو کوئی سہل کام نہیں ہے۔

اپنے سیاسی سفر میں فلک ناز نے اپنے وقت کی قربانی دی ہوگی، اپنے بچوں کو سوتا چھوڑ کر پارٹی کیلئے الیکشن کیمپئین کررہی ہوگی جب ہم جیسے کارکن ٹی وی میں بریکنگ نیوز دیکھ رہے ہوں گے، وہ پولیس کی لاٹھی کھارہی ہوگی، اجلاسوں میں شرکت کرنے کیلئے دیر گئے تک گھر لوٹ نہ سکی ہوگی، ملاکنڈ ڈیویژن جیسے روایتی معاشرے کی خواتین ونگ کی لیڈر کی حیثیت سے تنظیم سازی میں کیا کچھ جھیل چکی ہوگی، مردوں کے شانہ بشانہ جلسوں میں شرکت کی ہوگی اور یقینا دشمنوں کی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیاہوگا۔ آج جہاں بہت سارے لوگ ان کی سینٹر بننے پر خوش ہیں وہاں ان سے حسد کرنے والوں کی بھی کمی نہیں ہوگی۔ لیکن جلنے والوں کو ایک بات اپنے بھیجے میں اتارنی ہوگی کہ فلک ناز دودھ پینے والی مجنون نہیں ہیں، انہوں نے اس چمن کی آبیاری اپنے خون سے کی ہے۔ ایوان بالا تک رسائی کسی بھی سیاسی کارکن کا خواب ہوتا ہے۔ اور فلک ناز نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ خواب دیکھنا اور پھر اس کی تعبیر کرنا جانتی ہیں۔

عہدہ جتنا بڑا ہوتا ہے ذمہ داری بھی اتنی ہی بھاری ہوتی ہے۔ فلک ناز چترال سے ایوان بالا میں واحد نمائندہ ہوں گی۔ان کے اوپر نہ صرف یہ کہ چترال کیلئے اواز اٹھانے کی ذمہ داری ہوگی بلکہ ملکی سطح پر بھی قانون سازی میں حصہ ڈالنا ہوگا،اور نظام میں بہتری لانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ایک خاتون ہونے کی حیثیت سے مجموعی طور پر پاکستانی عورتوں کے مسائل اور خصوصی طور پر چترالی عورت کی حالت زار کا ان کو ادراک ہوگا۔ اور یقینا اس حوالے سے وہ ٹھوس کام کرنے کا عزم رکھتی ہیں جس کا اظہار وہ نامزد ہونے کے بعد اپنے ٹی وی انٹرویو میں کرچکی ہیں۔

دوسری طرف بحییثت چترالی ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ ہمارے ووٹوں سے جیت کر ایوان میں نہیں گئی ہیں۔ اس لئےجیسا کہ ہماری روایت ہے، اپنے چھوٹے موٹے مسائل لے کر ان کو تنگ کرنے کا سلسلہ شروع نہیں کرنا چاہیئے۔ کیوں کہ نہ ان کا منصب ہے اور نہ ہی ان کی ذمہ داری۔ مفاد پرست ٹولہ ان کو گھیرے میں لے کر اپنے مفادات کے تحفظ کیلئےاستعمال کرنے کی تگ و دو ضرور کرے گا۔ لیکن ان کی ترجیحات کسی گروہ یا فرد کے مفادات کا تحفظ ہرگز نہیں ہونی چاہئیں، بلکہ مظلوم اور پسماندہ طبقے کی اواز بن کر ہی وہ اپنے انتخاب کو درست ثابت کرسکتی ہیں۔ اس وقت چترال سیاسی طور پر لاوارث ہے۔صوبائی سطح پر حال یہ ہے کہ ہمارے نمائندے کو زمین کے کاروبار اور کمسن بچیوں کی “مخیر” حضرات سے شادی کے انتظامات سے فرصت نہیں۔ جبکہ قومی سطح پر ایوان میں ہماری نمائندگی “فاتحہ” پڑھوانے والےسے بڑھ کر نہیں ہے۔ جب کمسن بچیوں اور عورتوں کے تحفظ کے قانون پر بحث ہورہی ہو، ایسے میں ہمارے “افلاطون” عورتوں کو “خصی” کرنے کا “لاجواب” مشورہ دے کر ایوان اور قوم کو اپنا اور چترالیوں کے حسن انتخاب کا مذاق اڑانے کا خوب موقع فراہم کرتے ہیں۔ اور جب 440 ممبران سینٹ الیکشن میں اپنا حق رائے دہی استعال کررہے تھے،ایسے میں ہمارا نمائندہ منظر سے ایسے غائب تھا جیسے “بلی” کے سر سے سینگ۔ ان واقعات اور لطیفوں سے صاف واضح ہے کہ سیاسی طور پر ہم کس نہج پہ کھڑے ہیں۔ حبس کے اس ماحول میں فلک ناز صاحبہ ہوا کے تازہ جھونکے کی طرح ہیں۔ صوبائی سطح پر سیاسی خلا وزیر اعلی کے معاون خصوصی جناب وزیر زادہ کسی حد تک پر کر چکے ہیں لیکن قومی سطح پر چترالی قوم اس بچے کی مانند ہے جس کو ایدھی کے”جھولے” میں ڈال کر ماں خود فرار ہوگئی ہو۔ ہمیں امید ہے کہ فلک ناز صاحبہ بلقیس ایدھی بن کرچترالی قوم کی پرورش کریں گی۔ کچھ ایسا کرے گی “فلک” بھی ان پر “ناز” کرے۔ (آمین)

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
125270cookie-checkفلک ناز کرے

کالم نگار/رپورٹر : مراد اکبر

Share This