مادری زبان کا المیہ

میں شاعر نہیں ہوں، میں ادیب بھی نہیں ہوں اور میں لکھاری بھی نہیں ہوں۔ بس میری پیدائش اور تربیت ایک ادبی گھرانے میں ہوئی ہے۔ کھوار ادبی رسالے “جمہور اسلام” ہر مہینے باقاعدگی سے ہمارے گھر بذریعہ ڈاک پہنچ جاتا۔ ابا کے ساتھ ساتھ ہم سب بہن بھائی بھی رسالے کا بڑی بے چینی سے انتظار کرتے۔ ایک ایک مضمون اور ایک ایک کلام کئ کئی بار پرھا جاتا، تبصرے ہوتے اور پھر نئے شمارے کے اتے ساتھ پرانے والے کو ابا کی بے ترتیب لائبریری کی زینت بنایا جاتا۔ کبھی کبھار نئے شمارے کو پہنچتے پہنچتے دو مہینے لگ جاتے۔ ایسے میں ہمارا گزارا پرانے شمارے پر ہوتا۔ بابا ایوب، گل مراد خان حسرت، امین الرحمن چعتائی، محمد عرفان عرفان، تاج محمد فگار، فخرالملک فخر اور نجانے کتنے شاعر تھے جن کی عشقیہ شاعری کا لطف اٹھاتے۔ شیر ولی خان اسیر کے افسانے، عنایت اللہ فیضی کا کھوار سیکھئے اور ڈاکٹر رحمت امان کی صحت پر مضامین کا مزہ ہی کچھ اور تھا۔ حالات حاضرہ کی تصویری جھلکیاں ملکی اور علاقائی سیاسی حالات و واقعات کا خوبصورت نقشہ پیش کرتیں۔ شام کو ریڈیو پاکستان پشاور سے کھوار پروگرام سےمحمد حسن، اقبال الدین، میرزہ علی جان کی اواز میں گانے سنتے۔ گھر کا ماحول اگر بہت زیادہ نہیں تو ایک ادبی اور ثقافتی گھرانے سے قریب تر تھا۔ ابا جی سال میں تین چار بار چترال جاتے اور واپسی پر مشاعروں کے کیسٹ ساتھ لے کر اتے، جنہیں ہم مانگے کے ٹیپ ریکارڈر پر سن کر واہ واہ کرتے۔ علی ظہور چونکہ رشتہ میں ہمارے تایا اور ابا کے جگری دوست تھے، سر شام اپنے ستار سمیت تشریف لاتے اور رات دیر تک ستار کی محفل جمی رہتی۔ علی ظہور میکی ستار میں دھن بکھیرتے، ابا جان ڈرم بجاتے اور میرا کام تقرییا ہر دھن پر ناچ کا مظاہرہ کرنا ہوتا تھا۔ امی اپنے لاڈلے کے شاندار ڈانس پر خوش ہوکر خشک میوہ جات کی “زوری” ڈالتی۔ تھوڑا بڑے ہوئے تو ابا اپنے ساتھ چترال لے جانے لگے۔ جن کے کلام ہم نے جمہور اسلام میں پڑھے تھے یا کیسٹ میں سنے تھے، مشاعرے میں بیٹھ کر کلام شاعر بزبان شاعر سننے کا شرف ملا۔ بابا ایوب کی نرم گفتگو سنی، گل نواز خاکی کی موسیقی سے لطف اندوز ہوئے اور عنایت اللہ فیضی کے شوخ و چنجل مگر ادیبانہ محفل کے مزے بھی لوٹ لئے۔ مشانگل دنین میں مرحوم کلکٹر کی زبانی شکار کے قصے بھی سنے اور مثنوی مولانا روم بھی۔ شہزادہ عزیزالرحمن بیغش کے دربار میں مثل خان المعروف یساول کی مدھر اواز میں دانی کو زندہ ہوتے دیکھا۔ لوک ورثہ میں چترال کے ثقافتی طائفے کا حصہ رہا جہاں استاد تعلیم کی انکھوں میں رس گھولتی دھن اور ولی خان کے گرویدہ کرنے والے بروازی ڈانس سے کئی بار محظوظ ہوئے۔ ڈانس کا شوق جو علی ظہور کے ستار سے شروع ہوا تھا، اگے چل کر ساؤز، ہونزیک وار اور پھر دانی پہ آکر رک گیا۔

موسیقی کی دنیا میں بابا فتح نے اپنے کلاسیکی انداز سے ساتھ راج کرتے دیکھا اور اس کے شاگرد منصور شبابکو غزل گاکر کھوار موسیقی کے شائقین کو ایک نئی دنیا سے روشناس کراتے سنا بھی اور دیکھا بھی۔

دن گزرتے گئے، حالات بدلتے گئے۔ علی ظہور بہت پہلے ہمیں داغ مفارقت دے گئے تھے۔ ان کی وفات پر ابا بہت رنجیدہ ہوئے۔ ادھر کھوار پروگرام سے علی ظہور ساز بکھیرتے، ادھر ابا کی ہچکیاں بندھنی شروع ہوجاتیں۔ یہ کافی تکلیف دہ منظر ہوتا۔ جمہور اسلام کی اشاعت بند ہوئی، بابا ایوب بھی ابدی نیند سوگئے۔ اور ایک دن ابا بھی بہت ساری کتابیں اور بکھرا ہوا کلام چھوڑ کر چلے گئے۔ انجمن ترقی کھوار جو زبان کی ترویج و ترقی کا ایک زندہ ادارہ ہوا کرتا تھا ایک نئے دور میں داخل ہوچکا تھا۔ آج تک میری سمجھ میں نہیں ایا اس دور کو کیا نام دیا جائے۔ پرانے شاعروں اور ادیب یا تو یہ دنیا ہی چھوڑ گئے یا عمر کے اس حصے میں تھے جہاں ان کیلئے ادبی میدان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا مشکل ہوگیا۔ ان کی جگہ شاعروں کی ایسی نسل نے لے لی جس نے کھوار شاعری کو الفاظ کے گورکھ دھندے میں دھکیل دیا۔ غزل کے نام پر فارسی اور اردو مشکل الفاظ کا ایسا مرکب تیار ہوا جس کی نہ کوئی شکل تھی اور نہ ہی کوئی ذائقہ۔ خالص اتنی کہ آپ لاکھ کوشش کریں اور چراغ لے کر ڈھونڈیں پر کھوار کا ایک لفظ اپ پوری غزل میں ڈھونڈ نہ پائیں۔ چربہ فلموں کا نام بہت پہلے سنا تھا لیکن چربہ غزل کا تجربہ کھوار ادب میں ہوا اور بہت دھوم دھام سے ہوا۔ اردو اور فارسی شعراء کے خیالات بڑی ڈھٹائی سے چرائے گئے کہ خود غالب اور مومن تک عش عش کر اٹھیں۔ اگلا دور اس سے بھی بھیانک اور خوفناک ایا۔ چترال کے طول و عرض میں مشہور و معروف شاعر نہ صرف پیدا ہوئے بلکہ انہوں انے کھوار شاعری اور موسیقی کا جنازہ “معصوم اور مغل اسٹوڈیو” کی بھرپور مدد سے اس دھوم سے نکالا کہ ہم جیسوں نے کہا حیراں ہوں دل کو رووں کہ پیٹوں جگر کو میں۔ پیسون کے عوض ہمارے “درد کے سفیروں”(جن کو میں سردرد کے سفیر کہتا ہوں) نے وہ اودھم مچایا کہ الحفیظ و الامان۔ آج ہم کھوار شاعری اور موسیقی کے اس دور سے گزر رہے ہیں جسے ادب کی دنیا میں بلاشبہ “تاریک دور” کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

بحیثیت بولی کے بھی کھوار زبان اپنے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔ ہر چھوٹی زبان کی طرح کھوار بھی بڑی زبانوں جیسا کہ اردو، پشتو اور انگریزی سے بری طرح متاثر ہے۔ آج اگر ٹھیٹ کھوار میں کوئی بات کرے تو ہمارے نوجوان نسل بلکہ درمیانی عمر والوں کے کچھ پلے نہ پڑے۔ ہم “ویسیک’ کو چھوڑ کر انتظار اور اب Wait تک پہنچ چکے ہیں۔ ملاؤ بک، کھولاؤ کوریک جیسے بیہودہ الفاظ ایجاد کئے گئے۔

دکھ تو اس بات کا ہے زبان کےساتھ یہ نا روا سلوک تعلیم یافتہ طبقہ کررہا ہے۔ ورنہ مزدور اور گاؤن کا زمیندار تو آج بھی اپنے باپ دادا کی راہ کو نہیں بھولا۔ میں کئی ایک ایسے دوستوں اور احباب کو جانتا ہوں جن کے بچے کھوار کا ایک لفظ نہیں بول پاتے۔ بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی، وہ اس نیچ حرکت پر فخر بھی کرتے ہیں۔ ایک واقعہ یاد آیا۔ ایک گاؤں میں کسی بڑے افیسر کے بیٹے کا رشتہ ایا۔ حسب روایت افیسر علاقے کے معززین کو ساتھ لےایا تھا۔ باتوں باتوں میں موضوع زبان کی طرف نکل گیا۔ آفیسر نے بڑے فخریہ انداز میں کہا کہ میرے بیٹے اور بیٹیوں کو کھوار نہیں اتی، وہ اردو اور انگلش بولتے ہیں۔ محفل میں موجود ایک منچلے نے کہا کہ صاحب ایسا تھا تو کھوار والوںکو کیوں تکلیف دی، رشتہ مانگنے بھی کسی اردو یا انگلش والے کو لے اتے۔ ہم بھی کچھ سیکھ لیتے ان سے۔

آج ایک ویڈیو دیکھنے کو ملا جس میں کوئی انکر ٹائپ بندہ مائک ہاتھ میں لئے گلگت بلتستان کے کسی گاؤں والے سے “مادری زبان” کے بارے سوال کرتا ہے۔ میں اس معصوم دیہاتی کو دل دے بیٹھا ہوں۔ وہ کہتا ہے مادری زبان کیا چیز ہے مجھے نہیں پتہ میری ماں بچپن میں مر چکی ہے۔ اردو میں مادری زبان کا مطلب سمجھ میں نہ آنا ہی اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ یہی آدمی اپنی “مادری زبان” کا رکھوالا ہے نہ کہ وہ جو مائک والا ہے۔ آج اگر کسی کی بھی زبان کو خطرہ ہے تو وہ کسی مزدور سے نہیں، کسی محنت کش سے نہیں، اور نہ ہی کسی ان پڑھ سے ہے۔ وہ تو ہماری ثقافت اور زبان کے امین ہیں۔ اصل خطرہ شاعر کے قلم سے ہے، تعلیم یافتہ کی سوچ سے ہے اور فنکار کی سر سے ہے۔

Zeal Policy

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
124880cookie-checkمادری زبان کا المیہ

کالم نگار/رپورٹر : مراد اکبر

Share This