ارکاری ویلی اورلڑکیوں کے تعیلمی مسائل

یہ توہم سب جانتے ہیں کہ تعلیم انسان کےلیےعقل وشعور کے دروازے کھول دیتی ہےمگراِن دونوں تک رسائی کے لیے زمینی وسائل اورسہولیات تک دسترس بھی بے حد ضروری ہے۔جن کی بنیاد پرکم ازکم بنیادی تعلیم یعنی پرائمری تک سب کی رساِئی اسانی سے ممکن ہوسکے۔۔۔۔۔۔ارکاری ویلی کا دورہ کرنے کے بعد  مجھے اس بات کا اندازہ ہوگیا کہ یہاں کسی بھی سطح کی تعلیم خصوصا بنیادی تعلیم تک بھی سب کی رسائی نہایت مشکل سے ہوتی ہےخصوصا بچیوں کی ۔۔۔۔۔۔کیونکہ یہاں کا سب سے سےبڑآ مسئلہ ٹرانسپورٹ کا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔جس طرح ان کے اباواجداد تعلیم کی خاطرمیلوں پیدل چل کران سکولوں تک پہنچتے تھے بد قسمتی سےاج بھی بلکل اسی طرح اس دور میں ان کے بچے بھی انہی کی طرح میلوں پیدل سفر کرکے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ پراِئمری سکولوں کے کم عمر چھوٹے چھوٹےبچے اور بچیاں بھی سکول پہنچنے کے لئے ادھآ دن کا سفر طےکرتے ہیں ۔۔۔۔۔ ایک بچی کا کہنا تھآ کہ صبح سویرے سکول کونکلنا توہمارا روزمرہ کا روٹین ہےمگر ہم  لوگ پیپر کےدنوں میں تو۳ بجےاٹھ کرسکول کے لیے روانہ ہوتے ہیں۔ اب یہ تمام مشقت اپنی جگہ اگرہم اس کوایک اورخطرناک پہلو سے دیکھےتودل ہل جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سفر کے دوران مختلف موسمی خطرات کا بھی خدشہ ہے کیونکہ پہاڑی علاقے اور تنگ و باریک کچے راستے۔۔۔۔۔ اب اگر خدا نخواستہ ان حالات میں اس بچے یا بچی کے ساتھ کوئی بھی حادثہ پیش اجاتا ہے تو اس کی زندگی کا زمہ دار کون ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ سال پہلےکریم اباد میں ایسے ہی سکولوں کوجاتے طالب علم بچے بچیاں  جو انکھوں میں روشن مستقبیل کے سہانے خواب سجا کر گھروں سے نکلے تھےایک دم برفانی تودوں کی نظر ہوگیےتھے۔۔۔۔  ان حالات میں تو کسی نے آن کی زمہ داری نہیں لی تواب اِن بچیوں کے ساتھ خدا نخواستہ کسی حادثے کی صورت میں کیا کوئی زمہ داری لے سکتا ہے ہرگز نہیں،،،،۔۔۔یہ بچارے لوگ تعلیم کی خاطرجانیں ہتھلیوں پہ رکھ کرایک اچھے مستقبیل کی امید میں مہوسفرہیں ۔۔۔۔ایک اوراہم بات یہ کہ بچیوں کے لیے موسمی خطرات کے علاوہ اوربھی کئی معاشرتی مسائل جنم لینے کا خطرہ بھی ہےاس کے ساتھ ساتھ میلوں پیدل چل کر ان کی صحت بھی تباہ ہوجاتی ہے کیونکہ غربت کی وجہ سےخوراک بھی ان کو ٹھیک سے نہیں مل پاتِی اس طرح مشقت بھری زندگی کی وجہ سے یہ بچےاوربچیاں بےحد کمزوراوربیمار سےنظر اتے ہیں۔ 

اب ایسےحالات میں مختلف خطرات سے نکل کربھوکے پیاسےاور تھکے ہارے جب یہ طالب علم سکولوں میں پہنچتے ہیں تووہاں بھی کوئی سہولیات سے بھرپور سکول ان کا منتظر نہیں ۔۔۔۔ جب یہ بچے بچیاں سکول پہنچتی ہیں تو وہاں یا تواستاد نہیں ہوگا یا پھراستاد کی تعداد طالب علم کی تعداد کے مطابق نہیں ہوگی یا پھراساتذہ غیرحاصر یا پھرسب سے بڑا مسئلہ اسا تذہ کی اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ طالب علموں کو ان کی ضرورت کے مطابق پڑھآ سکے۔۔میں اپ کو بتاتی چلوں میں نے یہاں بہت سے اور بڑے مسائل جیسے غربت ، لڑکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک ،کم عمری کی شادِی وغیرہ کوتوبلکل بھی نہیں چھیڑا ہے اج کے لیے اتنا ہی باقی کہاںی پھر صیح

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے                          

Zeal Policy

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
138820cookie-checkارکاری ویلی اورلڑکیوں کے تعیلمی مسائل

کالم نگار/رپورٹر : زیل نیٹ ورک

زیل نیٹ ورک چترال کے جانے مانے صحافیوں اور لکھاریوں پر مشتمل ایک ٹیم ہے جو کہ صحافتی میدان میں ایک نمایاں مقام اور نام رکھتے ہیں۔ ان کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ خبر ہمیشہ سچ ہو اور اسلامی نظریہ اور نظریہ پاکستان سے متصادم نہ ہو۔
Share This